Gussa Karna in Islam | Gussa karna in English | Urdu | Hindi  | Hadith Ki Roshni Mane
1 Comments


Who repress anger, and who pardon men; verily, Allah loves Al-Muhsinun (the good-doers). (Al-Imran – 134) Narrated AbU Hurairah ؓ A man said to the Prophet ﷺ , “Advise me!” The Prophet ﷺ said, “Do not become angry and furious.” The man asked (the same) again and again, and the Prophet ﷺ said in each case, “Do not become angry and furious.” (Sahi Bukhari – 6116) It was narrated from Ibn Umar ؓ that the Messenger of Allah ﷺ said: “There is no gulp that brings a greater reward with Allah than a gulp of anger that a man swallows (suppresses), seeking thereby the Face of Allah.” (Sunan Ibn-e-Maja – 4189) 1) Restraining anger means to control one’s anger and grant pardon to a mistaken person. 2) Allah loves this because He Himelf is Ever-Pardoning and Ever-Forgiving. It was narrated from ‘Abdul-Malik bin ‘Umair ؓ that he heard ‘Abdur-Rahmin bin Abu Bakcah ؓ (narrate) from his father that the Messenger: of Allah ﷺ said: “Let the judge (qazi) not pass a judgment when he is angry.” (Sunan Ibn-e-Maja – 2316) The intellectual faculty of a person does not remain stable in a state of anger; and due to sentimental factors, the reflection upon all aspects of the matter becomes almost impossible. So it is a risk, that the decision given in the state of anger may be incorrect.

One thought on “Gussa Karna in Islam | Gussa karna in English | Urdu | Hindi  | Hadith Ki Roshni Mane

  1. ابوقتادہ ؓ نے روایت کی کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اور عرض کیا کہ آپ کیونکر رکھتے ہیں روزہ ؟ اس پر آپ ﷺ غصہ ہو گئے (یعنی اس لیے کہ یہ سوال بے موقع تھا ۔ اس کو لازم تھا کہ یوں پوچھتا کہ میں روزہ کیونکر رکھوں) پھر جب سیدنا عمر ؓ نے آپ ﷺ کا غصہ دیکھا تو عرض کرنے لگے : « رَضِينَا بِاللَّہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ غَضَبِ اللَّہِ وَغَضَبِ رَسُولِہِہم » ”راضی ہوئے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر ، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر اور پناہ مانگتے ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے ۔ “ غرض سیدنا عمر ؓ بار بار ان کلمات کو کہتے تھے یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کا تھم گیا پھر سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! جو ہمیشہ روزہ رکھے وہ کیسا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا ۔ “ پھر کہا جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”ایسی طاقت کس کو ہے ۔ یعنی اگر طاقت ہو تو خوب ہے پھر کہا : جو ایک دن روزہ رکھے ایک دن افطار کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ روزہ ہے داؤد علیہ السلام کا ، پھر کہا : جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”میں آرزو رکھتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت ہو ۔ “ یعنی یہ خوب ہے اگر طاقت ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تین روزے ہر ماہ میں اور رمضان کے روزے ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان تک یہ ہمیشہ کا روزہ ہے یعنی ثواب میں اور عرفہ کے دن کا روزہ ایسا ہے کہ میں امیدوار ہوں اللہ پاک سے کہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اور عاشورے کے روزہ سے امید رکھتا ہوں ایک سال اگلے کا کفارہ ہو جائے ۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *